کابل،3؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)افغانستان کے دارالحکومت سے ساٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع گاؤں سیواکا میں افغان طالبان نے ٹیکنیکل یونیورسٹی کے ایک نوجوان طالب علم کو پھانسی دے کر ہلاک کر دیا۔ یہ گاؤں چک نامی ضلع کا حصہ ہے۔ طالب علم کو پھانسی دینے کی تصدیق چک ضلع کی مقامی حکومت نے بھی کر دی ہے۔ طالب علم کا نام عبدالرحمان مینگل بتایا گیا ہے اور وہ افغان دارالحکومت میں قائم کابل پولی ٹیکنیک یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔طالب علم عبدالرحمان مینگل پر طالبان کچھ ہفتوں سے نگاہ رکھے ہوئے تھے۔مقامی طالبان شدت پسندوں نے اُس کو جمعرات، پہلی نومبر کو اغوا کر کے اپنی تحویل میں لیا تھا۔ عسکریت پسندوں کو شبہ تھا کہ وہ خفیہ شعبے کے سینئر اہلکار ملا میر واعظ کے قتل کی واردات کا حصہ تھا۔مقامی حکومت کے مطابق عبدالرحمان مینگل اپنی یونیورسٹی سے ملنے والی چھٹیاں اپنے خاندان کے ہمراہ گزارنے کے لیے واپس آ رہا تھا کہ پچھلی جمعرات کو طالبان نے اُسے راستے ہی میں سے اغوا کر لیا۔ اس بیان کے مطابق مقامی طالبان نے مینگل کو اغواء کرنے کے بعد اُس پر قتل کی واردات میں ملوث ہونے پرکھلے عام پھانسی دے دی۔کابل حکومت کے حامی ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ مینگل کے اغوا کی اطلاع پر ملنے پر متحرک ضرور ہوئے لیکن اُن کی کسی کارروائی سے قبل ہی طالب علم کو پھانسی دی جا چکی تھی۔طالبان کی جانب سے اِس طالب علم کو پھانسی دینے کی تصویر بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تھی۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ملا میر واعظ کے قتل کا معاملہ یقینی طور پر زیر تفتیش تھا لیکن جو کچھ ہوا ہے، اُس بارے میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد تمام معلومات اور حقائق عام کر دیے جائیں گے۔امریکی حکام کے مطابق طالبان عسکریت پسند ایک تہائی افغان علاقے پر اپنا کنٹرول رکھتے ہیں اور کئی دوسرے علاقوں میں بھی وہ کابل حکومت کے اختیار کو چیلنج کیے ہوئے ہیں۔ کابل کے مغرب میں واقع میدان وردک علاقے میں طالبان تقریباً پوری طرح چھائے ہوئے ہیں اور اس علاقے میں کابل حکومت کے لیے عملداری کو وہ چیلنج کیے ہوئے ہیں۔